Tuesday, September 21, 2010
Sunday, September 12, 2010
Funny Love Letter
When i am your : Kareeb
There is only : Khamoshi
I want to speak : Dil se
that’s my kind of : Ishq
i want this to be : Gupt
as i always have : Darr
that i will loose you : Sajani
and that would be great : Sadma
i am your : Mr.aashique
but sometimes bit : Deewana
tell me : Hum aapke hain kaun
as i feel : Kuch kuch hota hai
in this : Duniya dilwalon ki
i told you : Maine pyar kiya
Maybe : Dil to pagal hai
because : Jab pyar kisise hota hai
the whole world appears as : Dushman
but anyway : Pyar to hona hi tha
but u must know: Pyaar koi khail nahi
but if u want to become : Dulhan dilwale ki
then u must respond To this : Pukaar
And don’t mind because this is my: Style
i hope your answer is : Yes boss
And if u say no then i know life is: Kabhi khushi kabhi gham
i don’t know what will b my: Anjaam
ایک کرکٹر کا خط
کرکٹ کے ایک کھلاڑی نے اپنے دادا جان کے بارے میں اپنے دوست کو کچھ اس طرح سے سنایا:۔
سوچتا هوں، تمھیں کیا لکھوں اور لکھوں تو کس طرح لکھوں؟ وه نه صرف همارے گھر کی ٹیم کے کپتان تھے بلکه بھترین اوپنر بھی تھے۔ پچ پر ھمیشه جم کر کھیلے۔ اس سے انکار نھیں کیا جاسکتا که وه کئ بار سلپ بھی ھوۓ، رن آؤٹ هوتے هوۓ بچے۔ مگر یه تو کرکٹ کے ھر کھلاڑی کے ساتھ هوتا هے۔ مگر کھلاڑی تو وه ھے جو گر کر سنبھل جاۓ۔ دادا جان بھی ایسے هی کھلاڑی تھے۔ امپائروں نے انھیں باربار سراھا، تماشائیوں نے انھیں خوب داد دی، اس لیے وه کئ مرتبه ذیابطس کے هاتھوں ایل بی ڈبلیو هوتے هوۓ بچے۔
پرسوں جب وه بیٹنگ کرنے آۓ، تو کافی هشاش بشاش نظر آرھے تھے۔ مضبوط فیلڈنگ کی پروا کیۓ بغیر وه اب تک 82 رنز بنا چکے تھے اور ھماری ٹیم کو امید تھی که وه اپنی سینچری ضرور مکمل کرلیں گے۔ مگر واۓ افسوس کے، زیابطس کے اوورز ختم هوچکے تھے۔ ٹھیک رات کے باره بجے جب آخری بال ره گئ تو بولر نے بال تبدیل کروا دی اور وه اسی آخری بال پر عزرائیل کے هاتھوں کیچ آؤٹ هوگۓ۔
Zindagi hai Shaljam aur Amroud ka Naam
زندگی ہے مختلف جذبوں کی ہمواری
کا نام
آدمی ہے شلجم اور گاجر کی
ترکاری کا نام
عِلم الماری کا ، مکتب چار
دیواری کا نام
مِلٹن اِک لٹھا ہے ، مومن خان
پنساری کا نام
صاف کالر کے تلے ، معقول اک
اُجلی سی قمیض
ہے بہت ہی مختصر سا میری
دُشواری کا نام
اُس نے کی پہلے پہل پیمائشِ
صحرائے نجد
قیس ہے دراصل اِک مشہور پٹواری
کا نام
عشق ہر جائی بھی ہو تو درد کم
ہوتا نہیں
اک ذرا تبدیل ہو جاتا ہے بیماری
کا نام
کوئی نصب العین ، کوئی عشق کوئی
چاندنی ؟
زندگی ہے ورنہ اک مصرُوف بیکاری
کا نام
مدتوں دُزدیدہ ، دُزدیدہ نظر سے
دیکھنا
عشق بھی ہے اک طرح کی چور بازاری
کا نام
مَیں نے تو اپنے لئے آوارگی
تجویز کی
تم نے کیا رکھا ہے اپنی خود
گرفتاری کا نام
بات تو جب ہے بدل جائے سرشت
انسان کی
یُوں تو لکھ دینے کو لکھ دو
اُونٹ پر لاری کا نام
دل ہو یا دلیہ ہو ، دانائی کہ
بالائی ضمیر
زندگی ہے بعض اشیاء کی خریداری